بھٹکل 30 جولائی (ایس او نیوز)حسب سابق امسال بھی بھٹکل مسلم خلیج کونسل یعنی رابطہ سوسائٹی کی طرف سے بھٹکلی ٹاپرس کو گولڈ میڈل سے نوازاگیا اورتعلیم کےمیدان میں اپنی شاندارپرفارمینس کو جاری رکھتے ہوئے اسٹوڈینٹس کو مزید آگے بڑھنے کی ترغیب دلائی گئی۔ اس موقع پر مہمان خصوصی کے طور پرتشریف فرما آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا فضل الرحیم مجددی نے ملک کے مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی پر تفصیلی رپورٹ پیش کرتے ہوئے مسلمانوں کی تعلیمی صورتحال انتہائی نچلی سطح پر پہنچنے پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔
ایس ایس ایل سی میں ٹاپ کرنے والے اسٹوڈینٹس عائشہ امتیاز فکردے، انعم انجم دامودی،عائشہ ضُحیٰ فہیم ایس ایم، حاجرہ نعمان جوکاکو، محمد انف سدی احمدا اورفاطمہ اثناء واعظ شاہ بندری، سکینڈ پی یو سی میں ستارہ شاہین قمرالزماں محتشم، ساجدہ محمد نثارشیخ، فاطمہ زہرہ ابراہیم دامودی، نونین محسن کولا، ریّان عمر فہیم قاضیاء، آمنہ عبدالقادراستیاق، احمد عُرویٰ امیرالدین محمد حُسین، محمد مہران محمد معاذ جوباپو، اسریٰ محمد حںیف باپوجی اورفاطمہ رُوفیٰ عبدالرازق کوچیباپو کوگولڈ میڈل سے نوازا گیا۔ مدرسہ جامعہ اسلامیہ کے ٹاپرمحمد عیسیٰ ارشد حُسین شاہ بندری اور سید احمد رائف سید عبدالمطعال سید کاظمی، اسی طرح جامعۃ الصالحات سے عالمیت میں ٹاپ کرنے والی حفصہ حُسین شبیررکن الدین اورخدیجہ عرفان احمد جوباپو کو گولڈ میڈل سے نوازا گیا۔ بی اے،بی بی اے، بی سی اے، بی کام اور بی ایس سی میں بالترتیب ٹاپ کرنے والے اسٹوڈینٹس حمنیُ محمد سمیع اللہ مُلّا، عائشہ روفی جمیل حُسین فکردے، سندیپ وجے نائک، احمد فرازمحمد انصار شوپا اور خدیجہ ضُحیٰ عبدالرحمن رکن الدین، بی ای کمپوٹرسائنس میں ثناء فرحین داود شیخ، احمد رویفہ عبدالباسط دامدا فقی اورعائشہ عبدالماجد صدیقہ، بی ای سیول انجینرنگ میں محمد فہیم حسن کویا، ایم بی اے میں ایس صباح حسن شبر، اسی طرح اُترکنڑا کی سکینڈ پی یو سی ٹاپر رجتا منجوناتھ ہیگڈے (سرسی) اورپی ایچ ڈی کرنے پر ڈاکٹر سید نورالضحیٰ کو ایوارڈ سے نوازا گیا۔

اس بارنونہال سینٹرل اسکول کو بیسٹ اسکول اور بورڈ امتحانات میں نمایاں کامیابی درج کرنے پرانجمن گرلز ہائی اسکول نوائط کالونی کو بھی خصوصی اعزاز سے نوازا گیا جبکہ انجمن گرلز ہائی اسکول نوائط کالونی کی سمیرا کندن گوڈا کو بیسٹ ٹیچرکے اعزاز سے نوازا گیا۔
مسلمانوں کی تعلیمی حالت انتہائی تشویشناک: پروگرام میں مہمان خصوصی کے طور پرتشریف فرما آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا فضل الرحیم مجددی نے سرکاری ڈاٹا کے حوالے سے فرمایا کہ بھلے ہی بھٹکل میں مسلمانوں کی تعلیمی حالت قدرے بہتر ہے مگر تعلیم کو لے کر ملک کے مسلمانوں کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ لیپ ٹاپ کی مدد سے ڈسپلے اسکرین پر ڈاٹا دکھاتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ آج ملک میں مسلمانوں کی تعلیمی حالت دلتوں سے بھی نچلی سطح پر پہنچ چکی ہے اور یہ گراف دن بدن نیچے ہی جارہا ہے۔ مولانا نے مسلمانوں میں تعلیمی پسماندگی کے لئے غربت کو ذمہ دار قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے مسلمانوں کو اگر تعلیم کے میدان میں اوپرلانا ہے تومسلمانوں کو بڑے بڑے فنکشنوں، بڑے بڑے پروگراموں اور بڑی بڑی شادیوں پر رقم خرچ کرنے کے بجائے اُسی رقم کو مطلوبہ علاقوں میں تعلیمی ادارے قائم کرنے پر صرف کرنےچاہئے۔ آدھے گھنٹے کے اپنے خطاب میں مولانا نے اپنا پورا زور اس بات کو ثابت کرنے میں لگایا کہ مسلمانوں کی تعلیمی حالت انتہائی نچلی سطح پرپہنچ چکی ہے اوراس صورتحال کو بدلنے کے لئے سرمایہ دار طبقہ کو آگے آنے کی ضرورت ہے۔

پروگرام میں مولانا عزیزخلیفہ ندوی، ڈاکٹرعالیہ نازنین اورانجمن ہائی اسکول ٹیچررابعہ عثمان کی خدمات کے اعتراف میں اُنہیں سپاس نامہ پیش کیا گیا۔ سپاس ناموں کو بالترتیب عُبیداللہ عسکری، سلیم سعدا اورمولانا فُضیل ارمار نے پڑھ کر سنایا۔
رابطہ تعلیمی ایوارڈ کا پروگرام دو حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ صبح کے سیشن میں اطہر پیرزادے اور شام کے شیشن میں مولانا صابرعلی اکبرا نے نظامت کے فرائض انجام دئے۔ تلاوت کلام پاک اورنعت شریف کے بعد مولانا سید ہاشم ایس ایم ندوی نے صبح کے سیشن میں اورحفظ الرحمن مُنیری نے شام کے سیشن میں استقبالیہ کلمات پیش کئے، رابطہ سوسائٹی کے جنرل سکریٹری عتیق الرحمن منیری، بھٹکل کے قاضی صاحبان مولانا خواجہ معین الدین اکرمی مدنی اورمولانا عبدالرب خطیبی ندوی نے تعلیم کی اہمیت پرموثر انداز میں خطاب کیا۔ رابطہ کے صدر عمرفاروق مصباح نے صدارت کی، آخر میں یاسر قاسمجی نے کلمہ تشکر پیش کیا۔ گلف سے تشریف فرما کافی ذمہ داران سمیت بھٹکل کے مختلف اداروں کے بھی کافی ذمہ داران دن بھر کے پروگرام مٰیں شریک تھے۔